میں مسلمان ہوں اور میں دہشت گرد نہیں ہوں


آج پوری دنیا میں دہشت گردی کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے ۔ اور تقریباَدنیا بھر میں ہونے والے تمام تر دہشت گردی کے واقعات ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا جاتا ہے جو کہ بحثیت مسلمان میرے لئے باعث تکلیف اور شرمندگی ہے۔ آج دنیا بھرکے مسلمانوں کو شک و شبہات کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جدھر بھی مسلمان نظر آتے ہیں ان کو دہشت گرد کا خطاب دے دیا جاتا ہے۔
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہےکہ دنیا کیوں ایک پل میں تصویر کاصرف ایک ہی رخ دیکھ کر مسلمانوں کو دہشت گرد کا خطاب دے دیتے ہیں۔ حال ہی میں فرانس میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اس کی تازہ مثال ہیں۔وہ جو ہمیشہ مسلمانوں پر دہشت گرد ہونے کا الزام لگاتے ہیں، کیا وہ اسلامی تعلیمات اورمسلمانوں کے ماضی سے آگاہ ہیں ؟ اسلام تو امن وآشتی اور پیار محبت کا دین ہے، جو دشمن کو بھی معاف کر دینے اور شفقت برتنے کا درس دیتا ہے، بھلا اس مذہب کے پیروکار اتنے ظالم اور سنگ دل کیسے ہوتے ہیں؟ کسی بھی چیز کو پرکھنے سے پہلے سکے کے دونوں رخ ضرور دیکھنے چاہیں، پھر آپ کو پوراحق ہے کہ آپ اپنی رائے قائم کریں۔
دنیا کی نظر میں دہشت گرد قراردیا جانے والا اسلام وہی دین ہے جس کے پیغمبرﷺ نے بے پناہ طاقت ہونے کے باوجود اپنے دشمنوں کو ہر موقع پر معاف فرمایا اور پیارومحبت سے ان کا دل جیتا۔ اسلام اسی پیغمبرﷺ کا دین ہے جس نے پتھرکھاکربھی اپنےدشمنوں کو دعادی اور معاف فرمادیا، ہاں مجھے فخر ہے کہ میں اس نبیﷺ کا امتی ہوں جو ایسی خاتون کی عیادت اور تیمارداری کرتا ہے جو روزانہ ان ﷺ پر کوڑا پھینکتی ہے، لیکن میں قربان جاؤں اس نبیﷺ کی شان پر جواس ظرف کامالک ہے۔ اور بعد میں وہی خاتون میرے نبیﷺ کی تعلیمات سے متاثرہوکرمسلمان ہوجاتی ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں اس نبی ﷺ کا امتی ہوں جوکہ اپنی بھرپور شان وشوکت کے ساتھ مکہ فتح کرکے مکہ میں داخل ہوتے ہیں، اورتمام کفار پرخوف اور کپکپی طاری ہوتی ہے کہ اب ان کا کیا ہوگا، لیکن میرے پیارے نبی ﷺ نے سب کو معاف فرما کر ایک نئی تاریخ رقم کردی۔ دراصل اسلام کی یہی امن، عاشتی، پیار، محبت اور برداشت کی تعلیمات ہیں جو کہ دنیا بھر کے لئے ایک مثال ہیں۔
لیکن مجھے بے حد افسوس ہے کہ دنیا نے ہمیشہ تصویر کا ایک ہی رخ دیکھا ہے۔ یا پھر سب کچھ جانتے ہوئے وہ آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ دہشت گردوں کا تعلق کسی بھی مذہب سے نہیں ہوسکتا، بلکہ دہشت گردوں کو انسان کہنا انسانیت کی بھی توہین ہے۔ دہشت گردکا تعلق اسلام سے کسی حد تک نہیں ہو سکتا۔ یہ دہشت گرد مسلمان نہیں بلکہ مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ہےجو کہ ذاتی مفادات کی خاطر دنیا بھرپراپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتا ہے۔
مسلمانوں کو ملنے والے دہشت گردی کے خطابات کے کافی حد تک ہم خودبھی ہیں۔ مسلمان ممالک تعداد میں سب سے زیادہ ہیں لیکن بدقسمتی سے تمام ممالک نے آپس میں ایک دوسرے کے خلاف محاذ جنگ کھول رکھے ہیں۔ اس موقع پر مسلمانوں کو سوچنا ہوگا کہ ذاتی عناد و چپقلش سے نکل کر مسلم امہ کے لئے سوچیں۔ اتفاق سے مسلمانوں نے ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونے کی کوشش کی اوراسلامی ممالک کی ایک تنظیم تشکیل دی۔ بعد میں اس تنظیم کے بانیوں کا جو حال ہوا تاریخ اس کی گواہ ہے۔ باقی کثر ایران اور سعودی عرب کی باہمی انا نے پوری کردی۔
آج مسلمان خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بکھرے ہوئےہیں۔ مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک شام، عراق، اردن، یمن میدان جنگ بن چکے ہیں جن میں دنیا بھر کی بیرونی طاقتوں کے مفادات شامل ہیں۔ ایک طرف تو روس کا بلاک ہے جو کہ گرتا مرتا طاقت دکھا کر اپنی سابقہ سپر پاور حیثیت کا بحال کرانا چاہتا ہے۔ دوسری طرف طاقت کے نشہ میں دھت سپر پاور امریکہ ہے۔ دراصل مشرق وسطیٰ میں یہ میدان جنگ تیسری عالمی جنگ کا بگل ہے۔ امریکہ اور روس اپنی آپسی لڑائی کا نشانہ مسلمانوں کو بنا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ کسی عالمی کھیل کا حصہ بنے بغیر خود کو یکجاں کریں اور دنیا پر ثابت کریں کہ اسلام امن اور پیار کا دین ہے نہ کہ تشدد اور خوف کا۔
میری یہ دیرینہ خواہش ہے کہ محمد، عبدالللہ نام والے پاسپورٹس کو شک کی بجائے عزت و احترام سے دیکھا جائے۔ یہ عزت و احترام/ مرتبہ حاصل کرنے کے لئے تمام مسلمانوں کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔


Tagged: ,


Mehar Sher Chaudhary is studying in LL.B Year 1 (Evening) of Punjab University Programme in Pakistan College of Law. His interests include travelling, hunting and cricket. He also has a Masters in Political Science from the Punjab University.


The views expressed by the authors in all the posts do not necessarily reflect those of Pakistan College of Law.
Website by Moshin Anwaar | Design by Thunder Themes