اُمہات المومنین


عرب معاشرہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ عورت کو نہ عزت اور نہ وقار حاصل تھا۔ لہذا جب اسکا شوہر مر جاتا توہ وہ اور خطرے کا شکار ہو جاتی ۔ اسکی عزت اسکا مقام یہاں تک کہ اس کے مذہب تک کو خطرہ ہوتا۔ چنانچہ حضور پاک ﷺ نے ایسی عورتوں سے جن کے شوہر جنگوں میں شہید ہو جاتے یا جو ظالم حکمرانوں سے آزاد کی جاتیں، ان سے شادی فرما کر ایک عملی نمونہ پیش کیا۔
نبی پاک ﷺ کی تمام شادیوں میں صرف حضرت خدیجہ سےآپ کی شادی عام حالات میں ہوئی باقی تمام شادیاں کسی نہ کسی حکمتِ عملی اور حالات کے تقاضے پر طے پائی گئیں تھیں۔جیسا کہ حضرت زینب اپنے شوہر کی وفات کے بعد بہت مسائل کا شکار ہوئیں اور بہت زیادہ غربت سے دو چارچونکہ ان کے شوہر اسلام کی راہ میں شہید ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے آپ سے شادی فرما کر اُن کو سب مشکلات سے آزاد کروایا۔
اسی طرح عرب معاشرے میں منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی مانند سمجھا جاتا تھا۔ وہ جہالت کا دور تھا اور منہ بولے بیٹے سے شادی حرام قرار دی جاتی تھی۔ اسی روایت کو توڑنے کے لیے نبی پاکﷺ نے حضرت زینب سے شادی کی جو بنی پاکﷺ کے منہ بولے بیٹے زید کی بیوی تھیں۔ اسکا ذکر قرآن میں سورہ احزاب آیت(33-37)میں بھی آتا ہے۔
نبی پاک ﷺ کی بعض شادیاں اسلام کے لئےبہت مبارک بھی ثابت ہوئیں۔ جیسے حضرت جویریہ سے آپ کی شادی ۔ بنی مطلق قبیلہ اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا اور انہیں قیدی بنا کر رکھا ہوا تھا۔ آپﷺ کی آپ سے شادی کے بعد آپ بھی آزاد ہوگئیں۔ اور باقی تمام قیدیوں کو بھی آزاد کر دیا، کہ نبی پاکﷺ کے رشتہ داروں کو قید میں نہیں رکھ سکتے۔ چنانچہ بنی مطلق کے لوگ آپﷺ سے متاثر ہو کر اسلام لے آئے۔
حضرت میمونہ کا تعلق بھی بہت طاقت ور خاندان سے تھا۔ آپ ﷺ سے شادی سے قبل اسلام کے بہت بڑے دشمن بنے پھرتے تھے آپ ﷺ سے شادی کے بعد حالات بہت بہتر ہوگئے۔
اُمِ حبیبہ جو کہ ایک مشرک باپ ابو سفیان کی بیٹی تھی۔ ان کے شوہر کا اسلام کے لئے لڑتے ہوئے انتقال ہو گیا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان کو مشرک رشتہ داروں کے پاس واپس جانے سے بچایا، ان سے شادی کر کے ان کے بہت بڑے سہارا بنے۔ نبی پاک ﷺ کی بہت سی شادیاں آپسی تعلقات کو بہتر بنانے اور اسلام کی تبلیغ کرنے کی وجہ سے بھی طے پائیں، جس کی وجہ سے اسلام کے حالات بہتر ہوئے۔ جہاں لوگ اسلام کو ماننے تک کو تیار نہ تھے وہ نبی پاکﷺ کے اس رویے سے بہت متاثر ہوئے اور برسرِ اقتدار اور امیر طبقے کے لوگوں نے بیواؤں سے شادی کر کے ان کو سہارا دیا،اور بچوں کو ان کے حقوق ۔
خلفائے راشدین کی صاحبزادیوں سےشادی کا عمل اسلام کی بہتری کے لئے ایک بہت بڑا قدم تھا۔ آپسی تعلق مضبوط ہوا اور آپ ﷺ کے بعد اسلام کی انہی لوگوں نے حفاظت کی۔حضرت عائشہ کی شادی سے نبی پاک ﷺ کے تعلقات حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ کافی حد تک مضبوط بنائے۔ اسی طرح حضرف حفصہ سے شادی بھی حضرت عمر سے آپﷺ کے تعلقات مضبوط کر نے کا معاملہ تھی۔
مختصراً آپ ﷺ جب تک مکہ میں تھے، صرف ایک شادی کی تھی، لیکن آپ نے مدینہ میں اور جب اسلامی حکومت کی ذمہ داری کا ندھوں پر تھی، مسلمانوں کو اس طرف راغب کیا کہ وہ بے سر پرست عورتوں خاص طور پر جن کے بچے ہیں شادی کر کے ان کی نگہداشت کریں۔
لہذا یہ ہم مسلمانوں کے لئے بہت بڑی مثال ہے کہ صرف پیسے کے زور پر اور دکھاوے کے لئے دوسری شادی نہ کی جائے بلکہ آپﷺ کی مثال سامنے رکھ کر ہی فیصلہ لیاجائے۔

———————————————————————————————-

References for the above context:

– Hadith No. 5122 Sahih Bukhari Vol 7, in the book of Nikkah

– Aayah No. 37 Surah Al-Ahzab, Chapter 33 Holy Quran

– Aayah No. 164 Surah Al-Anam, Chapter 6 Holy Quran


Tagged:


Zarmina Khan is a student of BA from PCL. She's a keen learner who loves reading books and experiencing new activities.


  • Nauman Nazir

    Can i wrote somthing for legalmaxim

The views expressed by the authors in all the posts do not necessarily reflect those of Pakistan College of Law.
Website by Moshin Anwaar | Design by Thunder Themes